خرید بک لینک
 واجب الاطاعت کون؟ | | Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات واجب الاطاعت کون؟نذر حافی[email protected]گدائی کر کے اور چندے مانگ کر کھانا یہ عزّتِ نفس کی موت ہے۔ اسلام، انسانی نفس اور انسان کی عزت نفس کا محافظ ہے۔ جیسے کسی انسان کو خود کُشی کا حق نہیں ویسے ہی کسی انسان کو اپنی عزّت کو نیلام کرنے کا بھی حق نہیں۔ ہمارے ہاں ہر جگہ تو نہیں لیکن بعض دینی مدارس میں عزّتِ نفس کا جنازہ نکالا جاتا ہے۔ ایسے مدارس سے جو بھی نکلتا ہے وہ لباسِ دین پہن کر ایک پیشہ ور ٹھگ اور پروفیشنل بھکاری بن کر دین کے نام پر جگالی و گدائی کرتا ہے۔ یہ دین کے نام پر اُمّت میں ایک بہت بڑا بگاڑ ہے اور اصلاح اُمّت کے حوالے سے مفتی طارق مسعود صاحب کے کلپ خاص اہمیّت کے حامل ہیں۔ مذکورہ مفتی صاحب بڑی جہاندیدہ شخصیت ہیں اور وہ تو یقیناً یہ جانتے ہی ہیں کہ جس شخص کی عزّت نفس مر جائے وہ ہر پستی پر اُتر آتا ہے۔ پھر عزّت نیلام کرنا ، کسی دینی مدرسے میں لواطت کا شکار ہونا یا مدرسے کے کسی طالب علم کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانا اُس کیلئے کوئی اہم مسئلہ نہیں ہوتا۔ اسی لئے ہمارے بعض دینی مدارس ایسے کاموں میں صفِ اوّل میں کھڑے ہیں۔ تفصیلات کیلئے آپ گوگل سے مدد لیں۔ گوگل پر آپ کو مفتی طارق مسعود صاحب جیسے عظیم مصلح کا یہ تازہ کلپ بھی مل جائے گا جس میں وہ یہ فتوی دے رہے ہیں کہ "دنیا میں ایک اصول یاد رکھو!شریعت میں جو بادشاہ ہو، جس کے ہاتھ میں قوّتِ نافذہ ہو، اُس کے اچھے اور بُرے کی بحث اسلام میں ہے ہی نہیں، اس کی اطاعت واجب ہے"۔مفتی صاحب نے لباسِ دین پہن رکھا ہے اور اپنے مذہب کے باقاعدہ مفتی ہونے کے ناتے ان کا یہ بیان کردہ اصول آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے۔ انہوں نے اپنے مکتب کی طرف سے یہ باقاعدہ یہ ا

برچسب: نویسنده: کامران زارعی تاريخ: يکشنبه 7 مرداد 1403 ساعت: 18:45

صفحه بندی